Archive for March, 2018

لحاف برائے عصمت چغتائی

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔ معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر […]

دو بیل برائے منشی پریم چند

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے ۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی ۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے ۔ بہت دِنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے ، دونوں میں محبت ہوگئی تھی ۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہَل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہِلا ہِلا […]

������سواسیر گیہوں برائے منشی پریم چند

کسی گاؤ ں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ […]

اس کی بیوی جھریا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں فراغت پا چکے تو – نجات

دکھی چمار دروازے پر جھاڑو لگا رہا تھا۔ اور اس کی بیوی جھریا گھر کو لیپ رہی تھی۔ دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے، تو چمارن نے کہا۔ “تو جا کر پنڈت بابا سے کہہ آؤ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں۔” دکھی۔ “ہاں جاتا ہوں، لیکن یہ تو سوچ کہ بیٹھیں گے کس چیز پر؟” جھریا۔ “کہیں […]

جسم اور روح برائے سعادت حسن منٹو

مجیب نے اچانک مجھ سے سوال کیا: ’’ کیا تم اس آدمی کو جانتے ہو؟‘‘ گفتگو کا موضوع یہ تھا کہ دنیا میں ایسے کئی اشخاص موجود ہیں جو ایک منٹ کے اندر اندر لاکھوں اور کروڑوں کو ضرب دے سکتے ہیں، ان کی تقسیم کرسکتے ہیں ۔ آنے پائی کا حساب چشم زدن میں آپ کو بتا سکتے ہیں۔ […]

آمنہ افسانہ برائے سعادت حسن منٹو

دُور تک دھان کے سنہرے کھیت پھیلے ہوئے تھے‘ جُمے کا نوجوان لڑکا بُندو کٹے ہوئے دھان کے پُولے اُٹھا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گا بھی رہا تھا۔ دھان کے پُولے دھر دھر کاندھے بھر بھر لائے کھیت سنہرا‘ دھن دولت رے بندو کا باپ جُما گاؤں میں بہت مقبول تھا۔ ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس […]

سعادت حسن منٹو کاانتہائی قابل اعتراض افسانہ بُو

برسات کے یہی دن تھے۔ کھڑکی کے باہر پیپل کے پتے اسی طرح نہا رہے تھے۔ ساگوان کے اس اسپرنگ دار پلنگ پر جو اب کھڑکی کے پاس سے تھوڑا ادھر سرکا دیا گیا تھا ایک گھاٹن لونڈیا رندھیر کے ساتھ چپٹی ہُوئی تھی۔ کھڑکی کے پاس باہر پیپل کے نہائے ہُوئے پتے رات کے دودھیا اندھیرے میں جھومروں کی […]