آمنہ افسانہ برائے سعادت حسن منٹو

دُور تک دھان کے سنہرے کھیت پھیلے ہوئے تھے‘ جُمے کا نوجوان لڑکا بُندو کٹے ہوئے دھان کے پُولے اُٹھا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ گا بھی رہا تھا۔

دھان کے پُولے دھر دھر کاندھے

بھر بھر لائے

کھیت سنہرا‘ دھن دولت رے

بندو کا باپ جُما گاؤں میں بہت مقبول تھا۔ ہر شخص کو معلوم تھا کہ اس کو اپنی بیوی سے بہت پیار ہے‘ ان دونوں کا عشق گاؤں کے ہر شخص کو معلوم تھا‘ ان کے دو بچے تھے‘ ایک بندو‘ جس کی عمر تیرہ برس کے قریب تھی ‘ دوسرا چندو۔

سب خوش و خرم تھے مگر ایک روز اچانک جُمّے کی بیوی بیمار پڑ گئی‘ حالت بہت نازک ہو گئی‘ بہت علاج کیے‘ ٹونے ٹوٹکے آزمائے مگر اس کو کوئی افاقہ نہ ہوا۔ جب مرض مہلک شکل اختیار کر گیا تو اس نے اپنے شوہر سے نحیف لہجے میں کہا ’’تم مجھے کبوتری کہا کرتے تھے اور خود کو کبوتر ہم دونوں نے دو بچے پیدا کیے اب یہ تمہاری کبوتری مر رہی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم کوئی اور کبوتری اپنے گھر لے آؤ‘‘

تھوڑی دیر کے بعد اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو گئی‘ جمّے کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور اس کی بیوی بولے چلی جا رہی تھی۔ ’’تم اور کبوتری لے آؤ گے وہ سوچے گی کہ جب تک میرے بچے زندہ ہیں تم اس سے محبت نہیں کرو گے چنانچہ وہ ان کو ذبح کر کے کھا جائے گی‘‘

جمّے نے اپنی بیوی سے بڑے پیار کے ساتھ کہا ’’سکینہ! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ زندگی بھر دوسری شادی نہیں کروں گا‘ مگر تمہارے دشمن مریں تم بہت جلد ٹھیک ہو جاؤ گی‘‘

سکینہ کے ہونٹوں پر مُردہ سی مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ اس کے فوراً بعد اس کی رُوح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ جُمّا بہت رویا۔ جب اُس نے اپنے ہاتھوں سے اس کو دفن کیا تو اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اُس نے اپنی زندگی منوں مٹی کے نیچے گاڑ دی ہے۔

اب وہ ہر وقت مغموم رہتا‘ کام کاج میں اسے کوئی دلچسپی نہ رہی‘ ایک دن اس کے ایک وفادار مزارعہ نے اُس سے کہا ۔۔۔ ’’سرکار! بہت دنوں سے میں آپ کی یہ حالت دیکھ رہا ہوں اور جی ہی جی میں کڑھتا رہا ہوں۔ آج مجھ سے نہیں رہا گیا تو آپ سے یہ عرض کرنے آیا ہوں کہ آپ اپنے بچوں کا بہت خیال رکھتے ہیں‘ اپنی زمینوں کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔ آپ کو اس کا علم بھی نہیں‘ کتنا نقصان ہو رہا ہے‘‘

جمّے نے بڑی بے توجہی سے کہا : ’’ہونے دو مجھے کسی چیز کا ہوش نہیں‘‘

’’سرکار آپ ہوش میں آئیے چاروں طرف دشمن ہی دشمن ہیں‘ ایسا نہ ہو وہ آپ کی غفلت سے فائدہ اُٹھا کر آپ کی زمینوں پر قبضہ کر لیں‘ آپ سے مقدمہ بازی کیا ہو گی میری تو یہی مخلصانہ رائے ہے کہ آپ دوسری شادی کر لیں اس سے آپ کے غم کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور وہ آپ کے لڑکوں سے پیار محبت بھی کرے گی۔

جمّے کو بہت غصہ آیا ’’بکواس نہ کرو رمضانی ‘ تم سمجھتے نہیں کہ سوتیلی ماں کیا ہوتی ہے‘ اس کے علاوہ تم یہ بھی تو سوچو ‘ میری بیوی کی روح کو کتنا بڑا صدمہ پہنچے گا‘‘

بہت دنوں کے اصرار کے بعد آخر رمضانی اپنے آقا کو دوسری شادی پر رضامند کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ جب شادی ہو گئی تو اس نے اپنے لڑکوں کو ایک علیحدہ مکان میں بھیج دیا ہر روز وہاں کئی کئی گھنٹے رہتا اور بندو اور چندو کی دلجوئی کرتا رہتا۔

نئی بیوی کو یہ بات بہت ناگوار گزری ‘ ایک بات اور بھی تھی کہ مکھن دودھ کا بیشتر حصہ ا س کے سوتیلے بیٹوں کے پاس چلا جاتا تھا۔ اس سے وہ بہت جلتی ‘ اس کا تو یہ مطلب تھا کہ گھر بار کے مالک وہی ہیں۔

ایک دن جمّا جب کھیتوں سے واپس آیا تو اس کی نئی بیوی زاروقطار رونے لگی‘ جمّے نے اس آہ و زاری کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا ’’تم مجھے اپنا نہیں سمجھتے۔ اسی لیے بچوں کو دوسرے مکان میں بھیج دیا۔ میں ان کی ماں ہوں‘ کوئی دشمن تو نہیں ہوں مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب میں سوچتی ہوں کہ بیچارے اکیلے رہتے ہیں‘‘

جُمّا ان باتوں سے بہت متاثر ہوا اور دوسرے ہی دن بُندو اور چندو کو لے آیا اور ان کو سوتیلی ماں کے حوالے کر دیا جس نے ان کو اتنے پیار محبت سے رکھا کہ آس پاس کے تمام لوگ اس کی تعریف میں رطب اللسان ہو گئے۔

نئی بیوی نے جب اپنے خاوند کے دل کو پوری طرح موہ لیا تو ایک دن ایک مزارعہ کو بلا کر اکیلے میں اس سے بڑے رازدارانہ لہجے میں کہا ’’میں تم سے ایک کام لینا چاہتی ہوں بولو کرو گے‘‘

اس مزارعہ نے جس کا نام شبراتی تھا‘ ہاتھ جوڑ کر کہا : ’’سرکار! آپ مائی باپ ہیں جان تک حاضر ہے‘‘

نئی بیوی نے کہا ’’دیکھو ‘ کل دریا کے پاس بہت بڑا میلہ لگ رہا ہے میں اپنے سوتیلے بچوں کو تمہارے ساتھ بھیجوں گی‘ ان کو کشتی کی سیر کرانا اور کسی نہ کسی طرح جب کوئی اور دیکھتا نہ ہو انھیں گہرے پانی میں ڈبو دینا‘‘

شبراتی کی ذہنیت غلامانہ تھی‘ اس کے علاوہ اس کو بہت بڑے انعام کا لالچ دیا گیا تھا۔ وہ دوسرے روز بندو اور چندو کو اپنے ساتھ لے گیا۔ انھیں کشتی میں بٹھایا ‘’اس کو خود کھینا شروع کیا‘ دریا میں دور تک چلا گیا‘ جہاں کوئی دیکھنے والا نہیں تھا اس نے چاہا کہ انھیں دھکا دے کر ڈبو دے مگر ایک دم اس کا ضمیر جاگ اُٹھا‘ اس نے سوچا ان بچوں کا کیا قصور ہے سوائے اس کے کہ ان کی اپنی ماں مر چکی ہے اور اب یہ سوتیلی ماں کے رحم و کرم پر ہیں۔ بہتر یہی ہے کہ میں انھیں کسی شخص کے حوالے کر دوں اور سوتیلی ماں سے جا کر کہہ دوں کہ دونوں ڈُوب چکے ہیں۔

دریا کے دوسرے کنارے اُتر کر اُس نے بندو اور چندو کو ایک تاجر کے حوالے کر دیا جس نے ان کو ملازم رکھ لیا۔

بڑا لڑکا بندو کھیل کود کا عادی‘ محنت مشقت سے بہت گھبراتا تھا تاجر کے ہاں سے بھاگ نکلا اور پیدل چل کر دوسرے شہر میں پہنچا مگر وہاں اسے ایک دولت مند آدمی کے ہاں جس کا نام قلندر بیگ تھا‘ پناہ لینا پڑی۔ قلندر بیگ نیک دل آدمی تھا‘ اس نے چاہا کہ بندو کو اپنے ہاں نوکر رکھ لے‘ چنانچہ اُس نے اُس سے پوچھا : ’’برخوردار! کیا تنخواہ لو گے‘‘

بندو نے جواب دیا : ’’جناب میں تنخواہ نہیں لوں گا‘‘

قلندر بیگ کو کسی قدر حیرت ہوئی‘ لڑکا شکل و صورت کا اچھا تھا‘ اس میں گنوار پن بھی نہیں تھا‘ اُس نے پُوچھا ’’تم کس خاندان کے ہو کس شہر کے باشندے ہو؟‘‘

بندو نے اس سوال کا کوئی جواب نہ دیا اور خاموش رہا ‘ پھر رونے لگا۔ قلندر بیگ نے اس سے مزید استفسار کرنا مناسب نہ سمجھا ‘ جب بندو کو اس کے یہاں رہتے ہوئے کافی عرصہ گزر گیا تو قلندر بیگ اس کی خوش اطواری سے بہت متاثر ہوا۔ ایک دن اُس نے اپنی بیوی سے کہا بندو مجھے بہت پسند ہے۔ میں تو سوچتا ہوں اس سے اپنی ایک لڑکی بیاہ دُوں ‘‘

بیوی کو اپنے خاوند کی یہ بات بُری لگی لیکن آخر اس نے کہا : ’’آپ سے اس کے خاندان کے متعلق تو دریافت کیجیے ‘‘

قلندر بیگ نے کہا ’’میں نے ایک مرتبہ اس سے اس کے خاندان کے متعلق پوچھا تو وہ زاروقطار رونے لگا ’’پھر میں نے اس موضوع پر اس سے کبھی گفتگو نہیں کی‘‘

بندو کئی برس قلندر بیگ کے ہاں رہا‘ جب بیس برس کا ہو گیا تو قلندر بیگ نے اپنا سارا کاروبار اس کے سپرد کر دیا۔ کافی عرصہ گزر گیا‘ ایک دن بندو نے بڑے ادب سے اپنے آقا سے درخواست کی ’’دریا کے اُس پار دُور جو ایک گاؤں ہے وہاں میں چھوٹا مکان بنوانا چاہتا ہوں ۔ کیا مجھے آپ اتنا روپیہ مرحمت فرما سکتے ہیں کہ میری یہ خواہش پوری ہو جائے‘‘

قلندر مسکرایا ’’تم جتنا روپیہ چاہو لے سکتے ہو بیٹا۔ لیکن یہ بتاؤ کہ تم دریا پار اتنی دُور مکان کیوں بنوانا چاہتے ہو۔

بندو نے جواب دیا ’’یہ راز آپ پر عنقریب کھل جائے گا‘‘

بندو اور چندو کا باپ اپنے بیٹوں کے فراق میں گُھل گُھل کے مر چکا تھا‘ مزارعوں کی بڑی ابتر حالت تھی اس لیے کہ زمینوں کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ تھا۔

بندو‘ بہت سا روپیہ لے کر اپنے گاؤں پہنچا ‘ ایک پکّا مکان بنوایا اور مزارعوں کو خوشحال کر دیا۔

بندو کا بھائی چندو جس شخص کے ہاں ملازم ہوا تھا اس نے اُس کو بیٹا بنا لیا تھا‘ ایک دفعہ وہ خطرناک طور پر بیمار پڑ گیا تو اس شخص کی بیوی نے جس کا نام صمد خان تھا‘ اپنی بیٹی آمنہ سے کہا کہ وہ اس کی تیمار داری کرے۔

آمنہ بڑی نازک اندام حسین لڑکی تھی‘ دن رات اُس نے چندو کی خدمت کی‘ آخر وہ صحت مند ہو گیا‘ تیمار داری کے اس دور میں وہ کچھ اس طرح گھل مل گئے کہ ان دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو گئی۔

مگر چندو سوچتا تھا کہ آمنہ ایک دولت مند کی لڑکی ہے اور ہ محض کنگلا۔ ان کا آپس میں کیا جوڑ ہے‘ اس کے والد بھلا کب ان کی شادی پر راضی ہوں گے لیکن آمنہ کو کسی قدر یقین تھا کہ اس کے والدین راضی ہو جائیں گے ‘ اس لیے کہ وہ چندو کو بڑی اچھی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔

ایک دن چندو گائے بھینسوں کے ریوڑ کو جوہڑ پر پانی پلا رہا تھا کہ آمنہ دوڑتی ہوئی آئی اُس کی سانس پھولی ہوئی تھی‘ ننھا سا سینہ دھڑک رہا تھا اُس نے خوش خوش چندو سے کہا ’’ایک اچھی خبر لائی ہوں‘ آج میری ماں اور باپ میری شادی کی بات کر رہے تھے۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ تم بڑے اچھے لڑکے ہو‘ اس لیے تمھیں میرے ساتھ بیاہ دینا چاہیے‘‘

چندو اس قدر خوش ہوا کہ اس نے آمنہ کو اُٹھا کر ناچنا شروع کر دیا۔

ُان دونوں کی شادی ہو گئی‘ ایک سال کے بعد ان کے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام جمیل رکھا گیا۔

جب بندو اپنے گاؤں میں اچھی طرح جم گیا تو اس نے بھائی کا پتہ لیا۔ جا کے اُس سے ملا‘ دونوں بہت خوش ہوئے۔ بندو نے اس سے کہا اب اﷲ کا فضل ہے چلو میرے ساتھ اور دیوانی سنبھالو‘ میں چاہتا ہوں تمہاری شادی اپنی سالی سے کرا دوں ۔ بڑی پیاری لڑکی ہے‘‘

چندو نے اس کو بتایا کہ وہ پہلے ہی شادی شدہ ہے‘ سارے حالات سُن کر بندو نے اس کو سمجھایا۔ قلندر بیگ بیحد دولتمند آدمی ہے‘ اس کی لڑکی سے شادی کر لو۔ ساری عمر عیش کرو گے۔ آمنہ کے باپ کے پاس کیا پڑا ہے‘‘

چندو اپنے بھائی کی یہ باتیں سُن کر لالچ میں آ گیا‘ اور دولت مند آمنہ کو چھوڑ دیا۔ طلاق نامہ کسی کے ہاتھ بھجوا دیا اور اس سے ملے بغیر چلا گیا۔

چند روز کے بعد ہی بندو نے اپنے بھائی کی شادی قلندر بیگ کی چھوٹی لڑکی سے کرا دی‘ آمنہ حیران و پریشان تھی کہ اس کا پیارا چندو ایک دم کہاں غائب ہو گیا لیکن اُس کو یقین تھا کہ وہ مجھ سے محبت کرتاہے۔ ایک دن ضرور واپس آ جائے گا۔ بڑی دیر اُس نے اُس کی واپسی کا انتظار کیا اور اس کی یاد میں آنسو بہاتی رہی۔ جب وہ نہ آیا تو آمنہ کے باپ نے جمیل کو ساتھ لیا اور بندو کے گاؤں پہنچا‘ اس کی ملاقات چندو سے ہوئی۔ وہ دولت کے نشے میں سب کو بھول چکا تھا۔

آمنہ کے باپ نے اُس کی بڑی منت سماجت کی اور اس سے کہا ’’اور کچھ نہیں تو اپنے اس کمسن بیٹے کا خیال کرو‘ تمہارے بغیر اس بچے کی زندگی کیا ہے؟‘‘

چندو نے یہ کورا جواب دیا ’’میں اپنی دولت اور عزت اس بچے کے لیے چھوڑ سکتا ہوں؟ ۔ جاؤ اسے لے جاؤ اور میری نظروں سے دُور کر دو‘‘

جب آمنہ کے باپ نے اور زیادہ منت سماجت کی تو چندو نے اس بڈّھے کو دھکّے دے کر باہر نکلوا دیا۔ ساتھ ہی اپنے بچے کو بھی۔

بوڑھا باپ غم و اندوہ سے چور گھر پہنچا اور آمنہ کو ساری داستان سُنا دی۔ آمنہ کو اس قدر صدمہ پہنچا کہ پاگل ہو گئی۔ چندو پر پے در پے اتنے مصائب آئے کہ اس کی ساری دولت اجڑ گئی‘ بھائی نے بھی آنکھیں پھیر لیں۔ بیوی لڑ جھگڑ کر اپنے میکے چلی گئی‘ اب اُس کو آمنہ یاد آئی‘ وہ اُس سے ملنے کے لیے گیا‘ اس کا بیٹا جمیل‘ ہڈیوں کا ڈھانچہ‘ اُس سے گھر کے باہر ملا‘ اُس نے اُس کو پیار کیا اور آمنہ کے متعلق اس سے پوچھا۔

جمیل نے اُس سے کہا ’’آؤ تمھیں بتاتا ہوں‘ میری ماں آج کل کہاں رہتی ہے‘‘

وہ اُسے دُور لے گیا اور ایک قبر کی طرف اشارہ کر کے ’’یہاں رہتی ہے آمنہ امّاں‘‘

۱۶، مئی ۱۹۵۴ء